مون سون کی بارشوں کے پانی کو قابل استعمال بنا کر پانی کی کمی کے مسئلہ پر قابو پایاجاسکتا ہے، محمد سلیم بھٹی

لاہور (نمائندہ خصوصی) ڈہٹی انفارمیشن سیکریٹری پاکستان پیپلز پارٹی و ممبر پنجاب کلائمیٹ ایکشن نیٹ ورک نے موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے ہونے والے نقصانات پر قابو پانے کے حوالے سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت کو خصوصی طور پر پنجاب بھر میں بارشوں کے پانی کو ذیر زمین کنووں میں محفوظ کر کے ریچارج سسٹم یا پھر اسی پانی کو قابل استعمال بنا کر صوبہ بھر کی پانی کی ضروریات کو پورا کیا جاسکتا ہے،انہوں نے کہا کہ مغلوں کے زمانے سے لاہور میں اس مقصد کے لئے پانی والا تالاب کو استعمال کیا جاتا تھا جو آج بھی قابل استعمال ہے، اس کے علاوہ 2015 ء میں قذافی اسٹیڈیم لاہور کے اطراف میں پانی چوس کنویں بنائے تھے جو انتہائی کم خرچ بھی تھے۔ جنہوں نے اس وقت بارش میں سڑک پر کھڑا ہونے والا  پانی صرف 3 گھنٹوں کے قلیل وقت میں چوس لیا۔ سلیم بھٹی نے کہا کہ آج دریاؤں کے خشک ہونے کی بناء پر ذیرزمین ایکوائفر نہ ہونے سے نہ صرف پانی ریچارج نہیں ہوتا بلکہ پنجاب بھر میں پانی کی سطح 600 سے800 فٹ نیچے تک گر چکی ہے۔شہر لاہور کی صرف43  جگہوں پر ایسے پانی چوس کنویں بنا کر لاہور شہر کا پانی لیول بہتر کیا جاسکتا ہے جو اب زیر زمین 12فٹ انتہائی حد تک چلا گیا ہے۔ اسی طرح صوبہ بھر میں ہر شہر، گاؤں اور کسی بھی مناسب جگہ پر مقامی حکومتیں اپنے طور پر بھی ایسے پانی چوس کنویں بنا کر اہنے علاقے کا پانی لیول بہتر کرسکتے ہیں اس کے علاوہ پانی کو سٹوریج کر نے کے زیر زمین ٹینک بنا کر بھی پانی کی کمی پوری کی جاسکتی ہے،اور پانی چوس کنواں 6یا 7 لاکھ روپے کی قلیل رقم سے بن سکتا ہے، سلیم بھٹی نے مذید کہا کہ صرف لاہور جیسے بڑے شہر کو اپنے زمینی پانی کی سطح بحال رکھنے کے لئے سالانہ ایک لاکھ  ایکڑ فٹ سے ذیادہ حجم کے پانی کے خسارے کا سامنا ہے جبکہ ہر سال صرف مون سون کے موسم میں لاہور شہر سے بارش کا پانی اس سے دگنا حجم میں زیر زمین ایکوائفر میں واپس بھیجا جاسکتا ہے، اور اسی طرح صوبے بھر کے پانی کے مسائل کو باآسانی حل کیا جاسکتا ہے۔