چین کے ساتھ سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں تعاون کو مضبوط بنانا ضروری ہے، صدر پیرو

بیجنگ : پیرو کی صدر دینا بولوارٹے نے چائنا میڈیا گروپ کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں کہا کہ چین کے ساتھ خاص طور پر سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں تعاون کو مضبوط بنانا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین کی طرح ہم بھی توانائی کی منتقلی پر گہری توجہ دے رہے ہیں۔ بولوارٹے نے امید ظاہر کی کہ پیرو بھی چین کی طرح ٹیکنالوجی برآمد کرنے، ایک صنعتی ملک بننے، ڈیجیٹلائزیشن اور مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی کا حامل ملک بن سکتا ہے۔
پیرو کے شہر لیما کے شمال میں واقع پورٹ آف چنکے منصوبہ چین اور پیرو کے درمیان بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کی تعمیر کے تحت تعاون کا منصوبہ ہے۔ منصوبے کے مطابق ، یہ لاطینی امریکہ میں ایک اہم مرکز پورٹ اور پیسیفک گیٹ وے پورٹ کے طور پر ترقی کرے گا ، اور پورے لاطینی امریکہ میں پہلا 100 فیصد ڈیجیٹل پورٹ بھی بن جائے گا۔ پیرو کی صدر نے کہا کہ ہم نے چین کے ساتھ آزاد تجارت کے معاہدے پر دستخط کیے ہیں اور ہم صدر شی جن پھنگ کو نومبر میں اے پی ای سی اقتصادی رہنماؤں کے اجلاس میں شرکت اور چنکے کی بندرگاہ کی افتتاحی تقریب میں شرکت کی دعوت دیتے ہیں جو اسی دوران منعقد ہوگی۔ یہ دیکھتے ہوئے کہ چین ہمارا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے، ہم ایف ٹی اے اپ گریڈ مذاکرات پر ایم او یو کی تکمیل میں چین کے ساتھ دوطرفہ تجارت کا دائرہ وسیع کریں گے۔
صدر شی جن پھنگ کی قیادت اور عالمی اقدامات عالمی امن کے لیے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ میں صدر شی جن پھنگ کے اقدام کو سراہتی ہوں۔ تشدد ، مصائب، مایوسی اور معاشی تنزلی لاتا ہے، اور صرف پرامن ماحول میں ہی ترقی کا راستہ تلاش کیا جاسکتا ہے اور شہریوں کے معیار زندگی کو بہتر بنایا جاسکتا ہے۔