تاجکستان میں چینی امداد سے بننے والی پارلیمان کی عمارت اور سرکاری عمارت کی افتتاحی تقریب میں چینی و تاجک صدور کی شرکت

دو شنبے : چینی صدر شی جن پھنگ اور تاجکستان کے صدر امام علی رحمان نے مشترکہ طور پر دوشنبے میں تاجکستان میں چینی امداد سے بننے والی پارلیمنٹ کی عمارت اور سرکاری عمارت کی افتتاحی تقریب میں شرکت کی۔ہفتہ کے روز
شی جن پھنگ نے اپنی تقریر میں اس بات پر زور دیا کہ چین اور تاجکستان دوستانہ پڑوسی ہیں جو پہاڑوں اور دریاؤں سے جڑے ہوئے ہیں۔ حالیہ برسوں میں، دونوں ممالک نے ترقیاتی حکمت عملیوں کی ہم آہنگی کو مضبوط کیا ہے، ہمہ جہت تعاون کو فروغ دیا ہے، اور "بیلٹ اینڈ روڈ” کی مشترکہ تعمیر کے فریم ورک کے تحت بڑے منصوبوں کا ایک سلسلہ نافذ کیا ہے جس سے تاجکستان کی قومی ترقی اور احیاء میں مدد ملی اور لوگوں کو باہمی دوستانہ تعاون کے فوائد بھی محسوس ہوئے ہیں۔صدر شی نے کہا کہ یہ دونوں عمارتیں تاجک پارلیمنٹ اور حکومت کے دفتری امور میں بہتر لائیں گی اور چین اور تاجکستان کے درمیان دوستانہ تعاون کی نئی علامت بن جائیں گی۔ چین تاجکستان کے ساتھ جامع مشاورت، تعمیری شراکت اور مشترکہ مفادات کے اصول پر ثابت قدم رہتے ہوئے تاجکستان میں مزید تعاون کے منصوبوں کو نافذ کرنے اور تاجکستان کی اقتصادی اور سماجی ترقی میں زیادہ سے زیادہ تعاون کرنے کے لیے تیار ہے۔
امام علی رحمان نے کہا کہ یہ دونوں عمارتیں تاجکستان اور چین کے درمیان گہری دوستی کی ایک اور گواہ ہیں اور یقیناً تاجکستان اور چین کے تعلقات کی تاریخ میں درج ہوں گی اور تاجکستان کے عوام نسل در نسل ان کی تعریف کرتے رہیں گے۔