پرویز الٰہی پی ٹی آئی مقبولیت کی لہر میں بہہ گئے ،پھر سارا کیا کرایا بھی دھل گیا،چودھری سالک حسین

اسلام آباد:وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین نے سیاسی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت صورتحال مخدوش ضرور ہے لیکن حکومت چل رہی ہے اور چلتی رہے گی۔ جتنا میرا تجربہ ہے، ہر حکومت جب بھی آتی ہے تو چہ مگوئیاں شروع ہوجاتی ہیں کہ یہ حکومت چل سکے گی یا نہیں چل سکے گی۔ ہم نے ماضی میں دیکھا ہے کہ حکومتوں نے اپنی مدتیں پوری بھی کی ہیں، حالانکہ پہلے مہینے ہی کہا جاتا تھا کہ پتہ نہیں یہ چل پائیں گے بھی یا نہیں۔ لیکن یہاں مسئلہ یہ ہے کہ حکومت چل تو رہی ہے، سمت کا تعین ضروری ہے کہ جانا کس سمت ہے۔

سمندر پار پاکستانیوں اور مذہبی امور کے وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حج کے دوران مشکلات صرف پاکستانیوں کو نہیں بلکہ دنیا کے مختلف ملکوں سے آنے والے تمام حاجیوں کو ہوتی ہیں، ہمارا کام یہ ہے کہ ہم ان مشکلات کو کیسے کم کرسکتے ہیں۔ منٰی جانے سے پہلے حاجی 30 دن وہاں موجود تھے لیکن کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی۔ اس مرتبہ ہم نے مکہ اور مدینہ میں پاکستانی حاجیوں کے لیے حرمین کے قریب ترین رہائشگاہوں کا بندوبست کیا اور کھانے پینے کے حوالے سے بھی کوئی شکایات موصول نہیں ہوئیں۔ لیکن جب آپ منٰی جا رہے ہیں تو آپ ہوٹل سے نکل کر خیمے میں جا رہے ہیں جہاں اس بار سعودی حکومت کی جانب سے 0.8 میٹر فی بندہ جگہ مہیا کی گئی تھی۔

’میں بھی انہی خیموں میں رہا ہوں، میں نے کوئی پروٹوکول یا وی آئی پی حج نہیں کیا، ایک جگہ ٹرانسپورٹ نہیں مل سکی تو ہم بھی پیدل چل پڑے اور 6 کلومیٹر کا سفر ہم نے بھی پیدل ہی طے کیا‘۔
سوشل میڈیا کے سبب مشکلات زیادہ ہائی لائٹ ہو جاتی ہیں
چوہدری سالک حسین نے کہا کہ سوشل میڈیا پر کچھ ویڈیوز آئیں جن میں چند ایک پاکستانی تھے جبکہ زیادہ تر دوسرے ملکوں یعنی مصر، ملائیشیا وغیرہ کے لوگ تھے، اور کئی لوگ بغیر اجازت آئے جس کی وجہ سے تھوڑی مشکل آئی۔ مشائر میں شہید ہونے والے پاکستانیوں کی تعداد 12 جبکہ کل 37 پاکستانی شہید ہوئے اور گزشتہ برس یہ تعداد 75 تھی۔ 12 پاکستانی مشائر کی ادائیگی کے دوران شہید ہوئے جبکہ باقی تعداد کوئی ہارٹ اٹیک، دیگر امراض اور 2 پاکستانی کار ایکسیڈنٹ میں شہید ہوئے۔

’اس بار حج گزشتہ برس کے مقابلے میں بہت بہتر تھا، اگلے سال کے حج کے لیے ہم نے ابھی سے تیاری شروع کردی ہے تاکہ حج انتظامات کو زیادہ سے زیادہ باسہولت بنایا جاسکے‘۔
آئین میں ترمیم کے لیے اپوزیشن کو ساتھ ملانا چاہیے
چوہدری سالک حسین نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے نتیجے میں اگر سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں مل بھی جاتی ہیں تو اس سے حکومت کو تو کوئی فرق نہیں پڑے گا، البتہ آئینی ترمیم اگر کرنی ہو تو میں سمجھتا ہوں کہ اس میں اپوزیشن کو بھی ساتھ لے کر چلنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان کے مفاد میں کوئی ترمیم آ رہی ہے اور اپوزیشن اس کے حق میں ووٹ نہیں ڈالتی تو عوام خود ان کا محاسبہ کریں گے۔

عمران خان کی رہائی عدالتوں کا کام ہے ان کے باہر آنے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا
چوہدری سالک حسین نے کہا کہ عمران خان کی رہائی عدالتی احکامات سے مشروط ہے لیکن وہ باہر آجائیں یا اندر رہیں اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ پہلے ساڑھے 3سال حکومت میں تھے تو کیا تبدیلی لے آئے تھے، وہ بھی باقی تمام سیاستدانوں کی طرح ہی ہیں ان کے جیل میں رہنے اور باہر آنے سے پاکستانی سیاست پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔
پی ٹی آئی کی حکمت عملی لوگوں کو امید دلا کے رکھنا، آج نہیں تو کل باہر آجائیں گے
چوہدری سالک حسین نے کہا کہ پی ٹی آئی کی سیاسی حکمت عملی اور نفسیات کا بغور مطالعہ کر رہا ہوں۔ وہ ہر وقت اپنے فالوور کو کوئی امید لگا کے رکھتے ہیں۔ ہمیشہ کوئی تصویر بنا کے رکھتے ہیں، ابھی آج کل جو چل رہا ہے کہ عمران خان آج نہیں تو کل باہر آجائیں گے، اور باہر آئیں گے تو ہر چیز یکدم سے پلٹ جائے گی۔
علی امین گنڈا پور ہر میٹنگ میں تو ہمارے ساتھ ہی ہوتے ہیں
ایک سوال (پی ٹی آئی کی خیبر پختونخوا حکومت اور وفاق میں جاری کشمکش کا کیا مستقبل ہے) کے جواب میں چوہدری سالک حسین نے کہا کہ وزیراعلٰی خیبر پختونخواہ علی امین گنڈاپور ہر میٹنگ میں تو ہمارے ساتھ ہی ہوتے ہیں، وزیر داخلہ سے بھی ملے جو کہ پاکستان کے لیے خوش آئند بات ہے، پاکستان کی خاطر بدترین سیاسی مخالفین سے بھی بات کرنی چاہیے۔
پی ٹی آئی کا ایک دن کچھ، اگلے دن کچھ اور بیان ہوتا ہے
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ آیا پی ٹی آئی کی جانب سے حکومت کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے پیشکش کا مثبت جواب آیا ہے لیکن پی ٹی آئی کے قائدین کی جانب سے ایک روز کچھ اگلے روز کچھ بیان آتا ہے اور بظاہر ایسا لگتا ہے کہ وہاں فیصلہ سازی کا عمل یکسوئی سے خالی ہے۔ اس لیے ان لوگوں کو اپنے اوپر غور کرنے کہ ضرورت ہے، پہلے وہ آپس میں طے کر لیں پھر ہی آگے بات چیت کریں گے۔
چوہدری پرویز الٰہی کی رہائی میں ہماری طرف سے کوئی شرائط نہیں رکھی گئیں
چوہدری سالک حسین نے کہا کہ چوہدری پرویز الٰہی کی ضمانت پر رہائی میں ہماری طرف سے تو کوئی شرائط نہیں رکھی گئیں، ان کی فیملی کی طرف سے کہا جاتا رہا کہ چوہدری شجاعت صاحب ان کو کچھ آفر کرتے رہے، ہم نے آج تک انہیں کچھ آفر نہیں کیا، میں چوہدری شجاعت صاحب کے ساتھ اڈیالہ اور کوٹ لکھپت جیل میں 6 سات دفعہ چوہدری پرویز الٰہی سے ملا، انہیں کبھی کوئی پیشکش نہیں کی۔ یہ ساری باتیں بے بنیاد ہیں کہ ہم نے انہیں کوئی پیشکش کی تھی، ہمارا چوہدری پرویز الٰہی کے ساتھ تعلق سیاست سے بڑھ کر ہے، ان کا احترام دل سے کرتے رہے ہیں اور ہمیشہ کرتے رہیں گے۔

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کبھی چوہدری پرویز الٰہی کا برا نہیں چاہا
چوہدری پرویز الٰہی کی رہائی میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا کوئی کرادار ہے، اس سوال کے جواب میں چوہدری سالک حسین نے کہا کہ میں اس پر کوئی تبصرہ نہیں کروں گا صرف اتنا کہوں گا کہ محسن نقوی نے کبھی بھی چوہدری پرویز الٰہی کا برا نہیں چاہا۔ حالانکہ چوہدری پرویز الٰہی اور ان کی اہلیہ ہمیشہ یہ الزام لگاتے رہے لیکن محسن نقوی، میں نے اور نہ کبھی چوہدری شجاعت صاحب نے اختیار ہونے کے باوجود بھی برا نہیں چاہا۔

چوہدری پرویز الٰہی پی ٹی آئی مقبولیت کی لہر میں بہہ گئے پھر سارا کیا کرایا بھی دھل گیا
چوہدری سالک حسین نے کہا کہ چوہدری پرویز الٰہی نے پی ٹی آئی کیوں جوائن کی، اس بارے میں کچھ کہہ نہیں سکتا، لیکن ایک تجزیہ دے سکتا ہوں کہ پی ٹی آئی کی مقبولیت کی لہر چل رہی تھی، لوگ تبدیلی چاہتے تھے اور وہ بھی اسی رجحان کا حصہ بن گئے۔ اور پی ٹی آئی کا حصہ بننے سے سارا کیا کرایا دھل بھی جاتا ہے، اگر آپ اس جماعت کے فالوور ہیں تو آپ جنتی بھی ہیں، محب وطن بھی ہیں۔

امریکا میں قرارداد منظور کرانا کوئی بڑا کام نہیں
چوہدری سالک حسین نے کہا کہ یقین کریں امریکا میں قرارداد منظور کرانا کوئی بڑا کام نہیں۔ آپ لابیئسٹ ہائر کریں جو مرضی پاس کرا لیں۔
امریکا کے خلاف بیانیہ بنایا سب سے زیادہ اسپورٹ وہاں سے ہی آرہی ہے
چوہدری سالک حسین نے کہا کہ پی ٹی آئی نے وہاں امریکا میں کافی ورکنگ کر رکھی ہے، امریکا کے خلاف انہوں نے بیانیہ بنایا لیکن ان کو سب سے زیادہ حمایت بھی وہیں سے مل رہی ہے۔ اس چیز کے اوپر لوگوں کو سوال اٹھانا چاہیے۔ کتنی عجیب بات ہے کہ ایک شخص جس نے خط لہرا کے کہا کہ میری حکومت امریکا نے گرائی اسی کو امریکی حکومت بچانے آرہی ہے۔
پاکستان کی صورتحال پر ہر پاکستانی کی طرح میاں نواز شریف بھی متفکر ہیں
چوہدری سالک حسین نے کہا کہ میری براہ راست میاں نواز شریف سے بات نہیں ہوتی بالواسطہ طور پر ہو جاتی ہے، جبکہ وزیراعلٰی پنجاب مریم نواز سے بات چیت ہوتی رہتی ہے، وزیراعظم شہباز شریف سے بھی بات چیت ہوتی رہتی ہے، اور ہر پاکستانی کی طرح وہ بھی متفکر ہیں لیکن واحد راستہ پرفارمنس اور ڈیلیوری ہے اس کے علاوہ کوئی اور چارہ نہیں ہے۔